دودھ کے فوائد

تعارف

دودھ ایک صحت بخش قدرتی غذا دودھ ایک رقیق مرکب ہے جس میں بیشتر حصہ پانی کا ہوتا ہے.

دودھ میں پانی کی مقدار

گائے کے دودھ میں 6-87 فیصد بھینس کے دودھ میں 81 فیصد بکری کے دودھ میں 85.5 فیصد عورت کے دودھ میں 88 فی صد  لیکن اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا جا تا ہے کہ دوسری کئی بہ ظاہر  غذاؤں میں بھی پانی کی مقدار کثیر موجود ہوتی ہے مثلا سیب ہیں 85-9 فیصد گاجر میں 86 فیصد پیاز میں 8-86 فیصد آلو میں 7-74فیصد آڑو میں 90 فیصد انجیر میں 8-80 فیصد کیلے میں 73 تا 79فیصد ناشپاتی میں 86 فیصد کرم کلے میں 90 فیصد گوبھی میں 89 فیصد اور فرینچ بین میں 4-91فیصد۔ 

دودھ میں پانی کی مقدار

دودھ میں غذایت اور پروٹین کی مقدار

دودھ کے ترکیبی اجزاء میں ٹھوس مادہ تقریبا 13 فیصد ہوتا ہے جس میں پروٹین 3-3 فیصد کاربوہائیڈریٹ 8-4 فیصد چربی 6-3 فیصد اور معدنیات اور حیاتین کی خفيف مقداریں  شامل ہوتی ہیں  پروٹین جسم کی تعمیر کرتے ہیں جن کی بچوں کے نمود بالیدگی میں بہت ضرورت ہوتی ہے اور بچوں اور بالغوں دونوں میں جسمانی مرمت کے لیے ناگزیر ہیں.

دودھ میں غذایت اور پروٹین کی مقدار

ہڈیوں کے لیے دودھ کی اہمیت

دودھ میں کیلشیم کی وافر مقدار ہوتی ہے جو ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے بالخصوص بچوں میں دودھ میں فاسفورس کی مقدار تھوڑی ہی ہوتی ہے لیکن اگر دودھ سے کیلشیم کی کافی مقدار پہنچ جاۓ تو فرض کر لینادرست ہوگا کہ فاسفورس کی رسد بھی کافی حاصل ہوگئی ہے۔ چونکہ دودھ میں لوہے کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اس لیے مطلوبہ لوہے کی مقدار دوسرے ذرائع مثلاّ سبزی ترکاریاں اناجوں اور دالوں سے حاصل کرنا پڑتی ہے.

دودھ میں موجود وٹامن اور ان کے فوائد 

 دودھ میں کئی وٹامن موجود ہوتے ہیں جن میں سے اہم اور قابل لحاظ مقداروں میں حاصل ہونے والے یہ ہیں  وٹامن اے بی اورسی  غذا میں وٹامن اے کی قلت سے شب کوری ( رتوندا) اور چشم کی خشکی پیدا ہوکر بالآ خر نابینائی واقع ہوسکتی ہے حاملہ کی غذا میں وٹامن اے کی کمی سے پیدائش سے پہلے بچے کے دانتوں کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے

کمزور اور روگی بچوں اور بالغوں کو جن کا ہاضمہ خراب اور ضعیف ہو اور جو دوسری غذاؤں سے وٹامن اے کی مطلوبہ کافی مقدار میں نہیں حاصل کر سکتے انھیں اس کی قلت کی تلافی کے لیے دودھ زیادہ استعمال کرنا چاہیے وٹامن ڈی دودھ میں خاصی مقدار میں ہوتا ہے گو وٹامن اے کی نسبت کم۔ غذا میں کیلشیم اور فاسفورس کے جذب ہونے کے لیے وٹامن ڈی ایک ضروری چیز ہے اس وٹامن کی قلت سے بچوں میں ہڈیاں نرم اور بدشکل ہو جاتی ہیں بچوں میں دانتوں کے مضبوط اور باقاعدہ نمونے کے لیے بھی یا تین دکی کافی مقدار ضروری ہے۔

دودھ میں موجود وٹامن اور ان کے فوائد 

 دودھ کو ابا لنے یا پا سچوری طریقہ سے گرم کرنے سے وٹامن ڈی میں کمی نہیں واقع ہوتی ہے ٹین بند وار خشک دودھ کے سفوف میں بھی وٹامن ڈی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ تازہ دودھ میں۔  دودھ میں اہم آب حل پذیر وٹامن یہ ہوتے ہیں: اے بی اور سی وٹامن بی دودھ ابالنے سے ضائع ہو جاتا ہے۔

وٹامن بی کی قلت سے بیر بری‘‘ کا مرض پیدا ہوتا ہے وٹامن بی نسبتا زیادہ مقدار میں انسانی اور حیوانی دودھ میں موجود ہوتا ہے دودھ کو ابالنے سے یہ وٹامن غیر متاثر رہتا ہے کم یا ضائع نہیں ہوتا وٹا من بی کی قلت سے زبان میں ورم بثور گوشہ دہن میں تڑکیں عدم تحمل روشنی اور عام کمزوری کے علامات پیدا ہوجاتے ہیں۔

  وٹامن سی دودھ میں خفیف مقدار میں ہوتا ہے عورت کے دودھ میں مویشی کے دودھ کی نسبت اس کی مقدار پانچ گنا زیادہ ہوتی ہے تانبے کے برتن میں رکھنے سے اور ابالنے اور پاسچری تطہیر سے اس کی مقدار کم ہوجاتی ہے وٹامن سی کی قلت سے مسوڑھے پھول جاتے ہیں اور ان سے خون نکلتا ہے دانت ڈھیلے اور کمزور ہو جاتے ہیں اور قلت الدم (بدن میں خون کی کمی) ہوجاتی ہے۔

دودھ پینے کے فائدے

Leave a Comment

Translate »