گاجر کے فوائد

:تعارف

وٹامن :  گاجر میں 86 فیصد پانی، 9 فیصد پروٹین ایک فیصد چربی  ایک فیصد معدنی نمکیات اس کے علاوہ ریشه  کیلشیم  کاربوہائیڈریٹ اور فاسفورس ہوتا ہے علاوہ ازیں اس میں فولاد ہوتا ہے اس میں گندھک بھی ہوتی ہے اس کے علاوہ گاجر وٹامن کا خزانہ ہے ہر سوگرام میں 2000 سے 4300 اکائیاں وٹامن اے لیکن کیروٹین ہوتا ہے اتنا زیادہ کیروٹین ہونے کی وجہ سے اسے انگریزی میں کیرٹ کہتے ہیں.

پاکستان میں اکثر و بیشتر امراض کا بنیادی سبب غذا میں وٹامن اے کی کمی  ہے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ وٹامن اے کی کمی دور کرنے کے لیے کا ڈلیور آئل ( مچھلی کا تیل ) یا ریڈ پام آئل استعال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے مگر چونکہ یہ دونوں تیل گراں ہیں اور آسانی  دستیاب بھی نہیں ہو سکتے اس لیے عوام میں ان کا رواج پانا دشوار ہے۔

 

دودھ میں بھی وٹامن اے کافی مقدار میں موجود ہے مگر افلاس کی وجہ لوگ  اسے بھی بکثرت استعمال نہیں کر سکتے  گاجر میں وٹامن اے بہ افراط موجود ہے اور غریب لوگ بھی اسے آسانی سے خرید سکتے ہیں  وٹامن اے کا قدرتی ذخیرہ ہونے کے لحاظ سے بی کا ڈلیور آئل یا ریڈ پام آئل یا دودھ سے کسی حالت میں کم نہیں ہے کا ڈلیور آئل مکھن اور دودھ کے مقابلہ میں ایک گاجر میں دو تہائی حصہ وٹامن اے اور کھوپرے و گیہوں کی بھوسی  کے مقابلہ میں اس میں دو گنا وٹامن اے پایا جاتا ہے.

  معمولی طور پرپکاے جانے کی صورت میں درجہ حرارت سے گاجر کے وٹامن زائل نہیں ہوتے مگر ہوا میں کھلا رکھنے یا ضرورت سے زیادہ آنچ   دینے سے وٹامن زائل ہوجاتے ہیں  پکا کر کھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پکنے  کے دوران میں گاجروں کو ہوا نہ لگنے دی جائے کھلے برتن میں پکانے سے وٹامن اے بالکل تباہ ہو جاتے ہیں۔

 

:بچوں کے لئے گاجر کے فوائد

نازک کمزور بچوں کے لیے گاجر  کا رس  جادو کا سا اثر رکھتا ہے  ایک تولہ رس  خالی معدہ کھانے سے پیشتر اگر نازک اور بیمار رہنے والے بچوں کو پلایا جائے تو تھوڑے ہی عرصہ میں تندرست اور طاقتور ہو جاتے ہیں ننھے ننھے بچوں کو اگرصبح  وشام گاجر کا رس پانی میں ملا کر پلایا جائے تو بچوں کی صحت میں میں نمایاں فرق پڑ جاتا ہے.

جو بچے کمزور ہوں اور ان کی کمزوری کا سبب معلوم نہ ہو سکے ایسے بچوں کو4 ماشے  گاجر کا رس اور4 ماشے گرم پانی ملا کر دن میں دو تین دفعہ پلائیں اور ساتھ ہی ان کی ماں کو بھی گاجریں  کھانی چاہئیں اور گاجروں کا رس پینا چا ہیےاس سے دونوں کی صحت اچھی ہو جائے گی۔

 

:گاجر کا بطور دوا استعال

کم سے کم یہ  درجہ گاجروں کو آج ضرور حاصل ہوگیا ہے کہ وہ ڈاکٹروں کی نظروں پر چڑھ گئی ہیں  سوئیڈن کے اطباء کی اس حقیقت کو تجربات نے درست  ثابت کر دیا ہے کہ گاجر کا زرد رنگ یعنی  کیروٹین جسم کے اندر پہنچ  وٹامن اے پیدا کرتا ہے اور وٹامن اے کے متعلق یہ مسلم ہے کہ وہ بیرونی تعدیوں سے جسم کی حفاظت کرنے میں مدد دیتا  ہے یہی نہیں بلکہ امراض کو جسم سے نکالنے میں بھی مدد دیتا  ہے.

وٹامن اے کے مطلق یہ بھی تحقیق ہو چکا ہے کہ وہ جسم کا نشوونما  زیا دہ کرتا ہے گاجر جوآدھ  کچی ہوں اور پورے طور پرپک کر سخت  نہ ہوئی ہوں ان میں بکثرت یہ وٹامن  موجود ہوتا ہے اس کے علاوہ وٹامن بی سی اور ای بھی موجود ہیں۔

 

:دماغ کے لیے گاجر کے فوائد 

 اگر صبح کے وقت سات عدد مغز بادام کھا کر اوپر سے گاجر کا پانی 10 تولہ گائے کے آدھ کلو دودھ میں ملا کر نوش کریں تو دماغ کو تقویت پہنچتی ہے گاجر کا بیج  مقوی اعصاب ہے 4ماشہ سے 6 ماشہ تک کھانے سے اعصاب کی کمزوری دور ہو جاتی ہے۔

 

:آنکھوں کے لیے گاجر کے فوائد

اگر گاجر کے پتے گرم کر کے ان کا رس  نکالیں اور اس کے چند قطرے ناک اور کان میں ڈالیں تو اس سے چھینکیں  آ کر دردشقیقہ دور ہوتا ہے اور امراض چشم میں یہ مقوی بصارت ہے اگر گا جر بکثرت کھائی جائیں تو اس سے بصارت تیز ہوتی ہے۔

 

:دانتوں کے لیے گاجر کے فوائد

 گاجر کے کھانے سے دانت گوشت خورہ سے محفوظ رہتے ہیں پائیریا میں اسے بعد مسواک دانتوں اور مسوڑھوں پر ملنے سے فائدہ ہوتا ہے۔

 

:دل کے لیے گاجر کے فوائد 

  گاجر دل کو طاقت دیتی ہے خفقان میں چند گاجروں کو بھون کر ان کے اوپر کا چھلکا اور اندر کی گٹھلی نکال ڈالیں اور رات کو چینی کی پلیٹ میں رکھ کر شبنم میں رکھ دیں صبح  کے وقت  اس میں قدرے گلاب اور مصری ملا کر کھائیں تو بہت فائدہ ہوتا ہے۔

 

:جگر کے لئے گاجر کے فوائد

 گاجر جگر کا سدہ  کھولتی ہے سرکہ میں ڈالا ہوا ان کا اچار ورم طیال کوگلیل کرتا ہے جگر کی بیماریوں میں گاجر کھانا بہت مفید ہے گاجر کا رس پینا بھی مفید ہے۔

 

:وٹامن سی اور گاجر 

تمام اقسام کی وٹامن میں وٹامن سی نہایت ہی قیمتی اور انسانی صحت کے لیے ضروری ہے قوت مردی آنکھوں کی بینائی اور ہر مرض کی روک تھام کی قوت اسی وٹامن سی ‘‘ کی بدولت ہے کالی گاجروں میں جو رنگ  دار مادہ آپ کو نظر آتا ہے یہ تمام مادہ وٹامن سی سے بھرپور ہے بلکہ خود وٹامن سی  ہے.

پیلی  گاجروں میں کالی گاجروں کے مقابلہ میں وٹامن سی  کم ہوتا ہے کالی گاجروں کو چبا چبا کر ان کا رس چوسنا گویا کہ وٹامن سی جیسی سب سے قیمتی وٹامن سے جسم کو بھرنا ہے اس کے مسلسل استعمال سے رتوندا یعنی اندھیرتا  کم نظر آنا مائی اوپیا اور آنکھوں کی دیگر بہت سی بیماریاں دور ہوتی ہیں.

 

قوت مردی کے بڑھنے کے باعث انسان صاحب اولاد ہو جاتا ہے کالی گاجروں کی کانجی  بھی وٹامن سی سے بھر پور ہوتی ہے اس کا حلوہ اورمربہ  بہت مفید ہے یہ بے حد قیمتی  چیز ہے  ڈاکٹر وٹامن سی  کی بے حد قیمتی  گولیاں کھانے کی سفارش کرتے ہیں آپ ان کی نسبت بہت زیادہ فائد ہ کالی گاجروں سے اٹھا سکتے ہیں اگر کالی نہیں تو پیلی  گاجر ہی کھا کر جسم کی اس کمی کو پورا کریں۔

 

:گاجر کی کانجی 

گاجر کی کانجی  جگر اور قوت ہاضمہ کے لیے از حد مفید ہے قبض کشاء مصفی خون او دل و دماغ کو قوت دیتی ہے  باوجود اتنے اوصاف کے بے حد سستی اور از حد لذیذ ہے۔


 :بنانے کا طریقہ ہے

کافی گاجر تین کلو  چقندر ایک کلو  پانی دس کلو  باریک پسی ہوئی رائی ایک پاؤ۔ نمک آدھ کلو  بار یک سرخ مرچ 2 تولہ سفید زیرہ بھنا اور پسا ہوا دوتولہ کالی گاجر اور چقندر ایک ہی موسم میں ملتے ہیں  دونوں کو پانی کے ساتھ اچھی طرح سے دھو کر چاقو سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے مٹی کے گھڑے میں ڈال کر نمک رائی سرخ مرچ اور زیرہ بھی ان میں شامل کر دیں اور پانی کوخوب گرم کر کے گھڑے میں ڈال کر گھڑے کا منہ سر پوش سے بند کر کے رکھ دیں.

تین دن کے بعد نہایت خوبصورت سرخ رنگ کی کانجی  تیار ہوجائے گی اس کو کپڑے سے چھان کر پینا چاہیے یہ نہایت خوش ذائقہ ہوگی تفکرات سے جومرض ہائی بلڈ پریشر یعنی خون کا دباؤ بہت بڑھ جاتا ہے اس کے مسلسل استعال قطعی دور ہو جاتا ہے کیونکہ اس کانجی میں نباتاتی آئیوڈ گھلی ہوئی ہوتی ہے۔

گاجر کی کانجی 

مرض یرقان کے لیے اکسیر ہے  جگر کے لیے آب حیات ہے اس کے استعمال سے بڑھی ہوئی تلی کو آرام آجاتا ہے یہ کانجی  اعلی درجہ کی مصفی خون اور قبض کشا اور بے حد ہاضم ہے اس کا نجی میں فولاد بھی کافی ہے اس لیے تازہ خون پیدا کرتی ہے کالی گاجر اور چقندر کو کاٹ کر دھوپ میں سکھا لیں اور جن موسموں میں یہ ہر دو تازہ نہ مل سکیں  تب مندرجہ بالا طریقہ سے جب چاہیں کانجی تیار  کر کے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

 

:گاجر کا اچار 

 بنانے کا طریقہ کار: گاجروں کو لمبائی کی جانب سے تین یا چار حصے کریں اور گرم پانی میں تھوڑی دیرتک ابالیں تا کہ کسی قدرنرم  ہوجائیں، پھر ان کو پھیلا کر ہوا میں رکھ دیں  تا کہ اوپر کی رطوبت خشک ہو جائے نمک، سرخ مرچ اور دیگر مسالے ضرورت کے مطابق ڈال کر ان ٹکڑوں  پر چھڑک کر برتن میں ڈالیں اور دھوپ میں رکھ دیں اور دن میں چند بار ہلاتے رہیں.

جب گاجروں سے رطوبت نکل کر خشک ہوجائے تو ان میں سر کہ اس قدر ڈالیں کہ گاجروں سے اوپر رہے چند روز میں عمدہ اچار تیار ہوگا  فوائد: یہ اچار مقوی معدہ اورہاضم  ہے بڑھتے ہوۓ جگر اور طحال کو فائدہ دیتاہے۔

گاجر کا اچار 

Leave a Comment

Translate »