کیلا کے فوائد

تعارف

کھانے کے لیے ہمیشہ زردرنگ کے پختہ کیسے استعمال کرنے چاہئیں اگر ان کیلوں کو کسی برتن میں کمرے کے اندر رکھ دیا جائے تو چند گھنٹوں کے بعد ان پر بھورے رنگ کے دھبے اور چتیاں نمودار ہو جاتی ہیں اسی طرح گلو کوز اورسیکروز کی شکل میں ان کے کاربو ہائڈریٹ اجزاء کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور کیلا با آسانی ہضم کے قابل ہو جا تا ہے بہت سے پھل ایسے ہوتے ہیں جن میں آبی مادہ زیادہ ہوتا ہے لیکن کیلے میں تخمینا چوتھائی حصہ خالص غذائیت ہوتی ہے یہی سبب ہے کہ اس کو اکثر غذائی پھل کہتے ہیں۔

فوائد

کیلے میں کاربوہائیڈریٹ کا جزو خاص طور پر قوت بخش ہوتا ہے اس سے استحالہ غذا کے فعل کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور خاص کر بچوں کے لیے اس کا استعمال بہت مفید ہے غذا کے لحاظ سے کیلے کومکمل کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں جسم کی نشو ونمادینے والے صحت آفریں اجزاء بمقدار وافر موجود ہیں ان میں معدنی اجزاء کی بھی کمی نہیں ہے.

وٹامن

اس کے وٹا منوں میں وٹامن اے جسم میں متعدی امراض سے مدافعت کی قوت بڑھاتے ہیں وٹامن بی سے قوت ہاضمہ میں اضافہ ہوتا ہے اور وٹامن سی ساختوں اور ہڈیوں کو تقویت بخشتے کے لیے مفید اور ضروری ہے کیلے میں کیلشیم اور پوٹاشیم کی جو غیر معمولی مقدار ہوتی ہے اس سے اس اعضائے رئیسہ کا فعل درست رہتا ہے القلی  کے جزو سے فرسودہ خلیوں کی ازسرنو تشکیل میں مد دملتی ہے۔

مقدار استعمال 

اس سوال کا جواب شکل ہے کہ یہ چل کتنی مقدار میں کھانا چاہے ہرشخص کی قوت ہاضمہ مختلف ہے اور ہرشخص کی جسمانی ضروریات علیحدہ ہیں ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ کیلے میں غذائی اجزاء بہ مقابلہ دوسرے پھلوں کے بہت زیادہ ہیں اور یہ ٹھوس پھل بھی ہے اس لیے یہ تو ظاہر ہے کہ اسے انگور انار یاسنگترے کی طرح بے تحاشا نہیں کھایا جاسکتا پھر بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو ایک دو درجن کیلے نوش جان کر جاتے ہیں اور لطف یہ کہ بخوبی ہضم کر لیتے ہیں ایسے لوگوں کی قوت ہضمہ کا کیا کہنا.

حقیقت یہ ہے کہ کیلے سے ایسے ہی لوگ زیادہ سے زیادہ مستفید ہوتے ہیں ایسے حضرات باراشہ مضبوط صحت کے ہوتے ہیں اس کے برعکس ایسے حضرات بھی ہیں کہ انھیں دو کیلے کھاتے ہی ایک اچھا خاصا دست ہو جاتا ہے یہ وہ حضرات ہیں جن کے معدے اور دوسرے اعضائے  ہضم اپنی قوت ایک حد تک کھو چکے ہوتے ہیں اول الذکرقوی اعضائے ہضم والوں کے لیے تو اعتدال اور احتیاط کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا باقی لوگوں کے لیے اعتدال اور احتیاط ضروری ہے.

استعمال کا وقت

میرے نزدیک نہار منہ صرف کیلوں کا استعمال زیادہ مفید نہیں اس سے نظام ہضم میں گڑ بڑ ہو جانے کا امکان ہے کھانا کھانے کے بعد کیلا استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن مناسب یہ ہے کہ ایسی حالت میں روٹی کی مقدار کم کر دی جائے شام کا وقت کیلوں کے استعمال کے لیے موزوں وقت معلوم ہوتا ہے اگر اوپر سے ذرا سا دودھ پی لیا جائے تو جسمانی نشوونما میں بہت مدد ملتی ہے۔

کیلا بطوردوا

نصف صدی سے کیلا بعض امراض کے علاج میں خاموشی کے ساتھ معقول جگہ لیتا جارہا ہے طبی وسائل میں کیلے کے فوائد کے متعلق معلومات کا وافر ذخیرہ جمع ہو گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کیلے کھانا ایسے مواقع پر بھی مفید ثابت ہوتا ہے جب کہ دوسری روایی تدابیر سب کی سب نا کام ہو چکی تھیں سنہری چتری والے کیلے کی طرح اشتہا کو دعوت دینے والی اور اس سے مرغوب تر اور ارازاں تر دوا اور کیا ہوسکتی ہے؟.

 کیلے قولون کے افعال کو درست کرنے میں سب سے زیادہ شہرت رکھتے ہیں قبض کو دور کرنے کے لیے یہ نہ صرف اپنی مقدار کی زیادتی کی وجہ سے مفید ہوتا ہے بلکہ آنتوں کے جراثیم کی اصلاح بھی کرتا ہے۔ دوسری خوبی اس میں یہ بھی ہے کہ آنتوں میں سوزش پیدا نہیں کرتا بلک تسکین پیدا کرتا ہے۔

کیلا کے فوائد

  کیلا کئی دوسرے امراض کے علاج میں بھی قابل قدر ہے نقرس میں، کیونکہ ان میں پیورین نہیں ہوتا جو کہ نقرس میں مضر ہوتا ہے اور ایک
نرم غذا کا بھی کام دیتا ہے جس کی اس مرض میں ضرورت ہوتی ہے قلبی امراض میں بھی مفید ہے کیونکہ اس میں نمک کی مقدار برائے نام ہوتی ہے اور کیلو سٹرول بالکل نہیں ہوتا  ٹائیفائیڈ بخار میں اسہال سے اکثر پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہےکیلے سے ایسی حالت میں فوری افاقہ ہوتا ہے۔

عمل جراحی سے پہلے اور بعد میں کیلوں کا استعمال فائدہ بخش سمجھا جاتا ہے غالبا اس کا خاص سبب یہ ہے کہ اس میں وٹامن کی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ صدمات سے بھی محفوظ رکھتا ہے اور زخموں کو مندمل کرنے میں نہایت مفید ہے غرضیکہ کیلے صحت کو برقرار رکھنے میں معین و مددگار ہیں اسی طرح زائل شده صحت کے اعادہ میں بھی کافی قدرو قیمت رکھتے ہیں.

قبض اور کیلا  

قبض میں ایسی تمام چیزوں کو غذا سے خارج کر دینا لازمی ہے جو سوزش پیدا کرنے والی ہوں کیونکہ ان سے آنتوں میں جلن اور درد کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے اب مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے کہ غذا کے لیے اسی چیز کا انتخاب ضروری ہوتا ہے جس کی مقدار آنتوں میں طبی حرکات پیدا کرنے کے لیے کافی ہو لیکن اس سے سوزش یا خراش پیدا نہ ہو.

ڈاکٹرکی رائے
میڈیکل میں لکھتے ہیں قبض سے افاقے کی حالت میں آنتوں میں اکثر تیز ابی جراثیم پائے جاتے ہیں اس چیز پر اس نے ایک تجربہ کیا 9 بالغ اور 15 بچے چار ہفتوں سے زیادہ سے قبض کی شکایت میں مبتلا تھے اور کسی دوسری دوا سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ ان کو ایسی غذا دی گئی جس میں تین سے لے کر چارپختہ کیلے شامل ہوتے تھے۔ ایک سے دو ہفتوں کے اندر کیلوں کے استعمال سے ان سب کی آنتوں کی حرکات ٹھیک ہوگئیں اور آنتوں پرتیز ابی جراثیم کاشمار 60 فیصد سے 95 فیصد تک بڑھ گیا۔

قولنج

قولنج میں کیلے کے خواص خاص طور پر قابل تعریف ہیں اور پکار پکار کر دعوت توجہ دے رہے ہیں اس مرض میں بھی ہیجان ہی ساری مشکل کی بنا ہوتی ہے بی خواه آلاتی ہو یا کیمیائی اسی چیز سے قولون کے استر کی جلن میں اضافہ ہو جاتا ہے اور قلت اشتہا اور بار بار پاخانے کی شکایات پیدا ہو جاتی ہیں ایسی صورت میں مناسب غذا کی ضرورت ہوتی ہے جو جسم میں جذب بھی ہو سکے نرم اور پختہ کیلوں کا کچومر اس ضرورت کو بخوبی پورا کر سکتا ہے۔

پختہ کیلا آنتوں کے ہائیڈروکلورک تیزاب کو بے اثر کردیتا ہے یہ تیزاب ہی قولنج کے مریض کی سب سے بڑی مصیبت ہوتا ہے کیلے کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آنتوں کے استر پر لیپ کردیتا ہے جس سے آنتوں کی سوزش میں کمی واقع ہوجاتی ہے زخموں کے اند مال میں مددلتی ہے اور سوزش بڑھنے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے کیلے کو تھوڑی تھوڑی مقدار میں تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد دیا جاۓ تو طبیعت اسے اچھی طرح قبول کر لیتی ہے آسانی سے ہضم ہو جا تا ہے اور مزیدار معلوم ہوتا ہے۔

جلد کی خارش

کیلوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں پروٹین خفیف مقدار میں ہوتا ہے اس لیے ان کو اکثر ایسے غذائی پروگرام میں استعمال کیا جاتا ہے جس میں جلد چٹے پڑ جاتے ہیں یا ہضم میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے یا دمہ کا دورہ پڑ جاتا ہے ایک بچوں کے امراض کے رسالہ میں ایل ڈبلیوایل کہتے ہیں کہ ان کا معمول ہے کہ وہ داد میں کیلوں کو اصل اور بنیادی غذا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

جب نقصان رساں غزا کی چھان بین کی جارہی ہو تو اس دوران میں کیلے بہترین غذا کا کام دیتے ہیں اگر کوئی بنیادی غذا اس امتحان میں مضرت رساں ثابت ہو تو بھی کیلوں کو غذا کی کمی کی تلافی کے طور پر باقی رکھا جاسکتا ہے خون کی کمی کے مریض میں بھی کیلوں سے مدد لی جاسکتی ہے کھیلوں میں فولاد اتنی کافی مقدار میں ہوتا ہے جس سے قلت خون والے چوہوں میں خون کی سرخی کی پیدائش بڑھ جاتی ہے کیلوں کے اندر جتنا بھی لوہا پایا جاتا ہے وہ اس شکل میں ہوتا ہےکہ سب کا سب سرخی پیدا کرنے کی تیاری میں استعمال ہوسکتا ہے.

أمراض گردہ اور کیلا 

ان حالتوں میں جبکہ خون میں زہریلے اجزاء شامل رہتے ہیں اور گردے انھیں چھانٹ کر علیحد نہیں کرتے تو کیلوں کو بطور غذا تجویز کیا جاتاہے کیونکہ کیلوں سے گردوں پر باز نہیں پڑتا۔ ایسی صورت میں وہ 9 کیلے یومیہ تین چار روز تک استعمال کرے گردے کے اس مرض میں دونوں وقت کے کھانے میں کیلا ضرور شامل ہونا چاہیے کیونکہ اس مرض میں معدہ کی خرابیاں اکثر موجود ہوتی ہیں اس حالت میں نرم اور ملین کیلا بہت مناسب غذا ہے۔

کیلا کے فوائد

ذیابیطس اور کیلا  

کیلے کے استعمال سے پیشاب کی کیفیت تیزابی سے الکلی میں تبدیل ہوجاتی ہے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے شاہد ہی اس سے بہتر کوئی غذامل سکے میو کلینک کے غذائی پروگرام میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کیلوں کو معیاری اورمخصوص غذا کا درجہ دیا جاتا ہے.

کیلا کے فوائد

Leave a Comment

Translate »